اس بار بوائی کے موسم میں کسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ گندم کی قیمت ہے۔ 13 اکتوبر 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں نیشنل ایگریکلچرل اینڈ فوڈ سیکیورٹی کونسل (NAFSC) کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمت بوائی سے پہلے مقرر کر دی جائے گی۔ ادھر کسانوں کے ایک بڑے اتحاد نے 18 اکتوبر کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔

حکومت نے کیا کہا

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے گندم "وافر مقدار میں موجود ہے" اور "گندم ذخیرہ کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔" ان کا کہنا تھا کہ مقصد یہ ہے کہ کسان کو گندم کی جائز قیمت ملے اور عام آدمی کو سستا آٹا دستیاب ہو۔ ڈان کے مطابق صوبائی حکومتوں سے بات چیت مکمل ہوتے ہی قیمت کا اعلان "جلد" کر دیا جائے گا۔

صوبوں نے بھی آٹے کی قیمت کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں:

  • وزیراعلیٰ سندھ نے 15 اکتوبر سے سرکاری گندم 12,500 روپے فی 100 کلو کے حساب سے فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔
  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آٹا سستا رکھنے کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی منظور کی ہے۔

کسانوں کے مطالبات

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی (PKRC) پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کی 36 کسان تنظیموں کا اتحاد ہے۔ اس نے 18 اکتوبر کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی ہے۔ اس کے بڑے مطالبات یہ ہیں:

  • بوائی سے پہلے گندم کی امدادی قیمت 5,000 روپے فی من کا اعلان
  • گنے کی امدادی قیمت 700 روپے فی 40 کلو
  • گندم کی نجی خریداری ختم کی جائے اور پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک دوبارہ گندم خریدیں
  • چھوٹے اور درمیانے کسانوں کے لیے سستی کھاد، بیج اور دیگر زرعی سامان اور آسان قرضے
  • شوگر ملوں کی ادائیگیوں پر حکومتی نگرانی، اور پالیسی فیصلوں میں کسان نمائندوں کی شمولیت

PKRC کے صدر طارق محمود نے کہا کہ کسان بیج، کھاد، زرعی ادویات اور ڈیزل پر بھاری خرچ کرتا ہے، لیکن جب فصل تیار ہوتی ہے تو جائز قیمت کے لیے اسے "دَر دَر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔" ستمبر میں پاکستان کسان اتحاد نے بھی 5,000 روپے فی 40 کلو قیمت کا مطالبہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر پالیسی بروقت نہ آئی تو کسان شاید گندم کاشت ہی نہ کریں۔

کسانوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

گندم کی بوائی شروع ہونے والی ہے اور ابھی تک کوئی سرکاری قیمت سامنے نہیں آئی۔ حکومت نے صوبوں سے مشاورت کے بعد فیصلے کا وعدہ تو کیا ہے، لیکن نہ کوئی تاریخ بتائی ہے نہ کوئی ریٹ۔ جو کاشتکار گندم کے رقبے، بیج، کھاد اور مشینری کے اخراجات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، وہ آنے والے دنوں میں اس اعلان پر نظر رکھیں۔ ساتھ ہی 18 اکتوبر کے احتجاج کے نتیجے پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ اس کا اثر قیمت اور سرکاری خریداری کے آخری فیصلے پر پڑ سکتا ہے۔

ذرائع