پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کیسے طے ہوتی ہے

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی زیادہ سے زیادہ قیمت کا حساب لگا کر نوٹیفائی کرتی ہے، اب زیادہ تر کام کے دنوں میں۔ ہر نئی قیمت رات بارہ بجے نافذ ہوتی ہے اور اگلے نوٹیفکیشن تک برقرار رہتی ہے۔

حساب عالمی قیمت سے شروع ہوتا ہے: پیٹرول کے لیے پلاٹس عرب گلف قیمت کی سات کاروباری دنوں کی اوسط، اور ڈیزل کے لیے دبئی خام تیل اور ڈیزل مارجن کی اوسط، ساتھ کراچی تک جہاز کا کرایہ۔ یہ ڈالر لاگت اسٹیٹ بینک کے سات دن کے اوسط شرح تبادلہ پر روپے میں بدلی جاتی ہے۔ پھر کسٹم ڈیوٹی، اندرون ملک کرایہ، آئل کمپنی اور ڈیلر کے مارجن اور حکومتی لیوی شامل کی جاتی ہیں۔

قیمت کیوں بڑھتی یا کم ہوتی ہے

قیمت سات دن کی اوسط پر چلتی ہے، اس لیے یہ بڑی چھلانگ کے بجائے چھوٹے قدموں میں بدلتی ہے۔ چار چیزیں اس پر اثر ڈالتی ہیں:

  • عالمی تیل کی قیمت: خلیج میں پیٹرول یا ڈیزل مہنگا ہو تو تقریباً ایک ہفتے میں پاکستانی پمپوں تک اثر پہنچ جاتا ہے۔
  • روپے اور ڈالر کی شرح: ایندھن ڈالر میں خریدا جاتا ہے، اس لیے روپیہ کمزور ہو تو عالمی قیمت ویسی رہنے پر بھی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
  • حکومتی لیوی: پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی (آج مل کر Rs 85.00 فی لیٹر) وفاقی حکومت طے کرتی ہے اور بجٹ کے ساتھ بدلتی ہیں۔
  • مارجن اور کرایہ: آئل کمپنی اور ڈیلر کے مارجن حکومت مقرر کرتی ہے اور وقتاً فوقتاً ان پر نظرثانی ہوتی ہے۔

پاکستان میں بکنے والے ایندھن کی اقسام

  • پیٹرول (سپر، 92 RON): گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا عام پیٹرول، جس کی زیادہ سے زیادہ قیمت حکومت مقرر کرتی ہے۔
  • ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD): ٹریکٹر، کمبائن ہارویسٹر، ٹرک، بسیں اور ڈیزل ٹیوب ویل انجن اسی پر چلتے ہیں۔ کھیتی کے خرچ کے لیے سب سے اہم ایندھن یہی ہے۔
  • ہائی آکٹین (HOBC، 97 RON): پریمیم پیٹرول۔ اس کی قیمت اوگرا مقرر نہیں کرتی، ہر آئل کمپنی خود طے کرتی ہے اس لیے برانڈ کے حساب سے فرق ہوتا ہے۔
  • مٹی کا تیل: گیس سے محروم علاقوں میں کھانا پکانے، روشنی اور کچھ ہیٹروں میں استعمال؛ ہفتہ وار نوٹیفائی ہوتا ہے۔
  • لائٹ ڈیزل آئل (LDO): بھاری قسم کا ڈیزل جو کچھ صنعتی برنرز اور پرانے پمپ انجنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
  • ایل پی جی: کھانا پکانے اور گرمائش کے لیے وزن کے حساب سے سلنڈروں میں بکتی ہے؛ اوگرا ہر ماہ زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کرتی ہے۔
  • سی این جی: اوگرا اب سی این جی کی قیمت نوٹیفائی نہیں کرتی، اس لیے اسٹیشن اپنے ریٹ خود طے کرتے ہیں۔

ڈیزل کی قیمت کسان کے لیے کیوں اہم ہے

پاکستانی کھیت کا تقریباً ہر مشینی کام ڈیزل پر چلتا ہے: ہل چلانا اور زمین تیار کرنا، بوائی، کمبائن اور تھریشر سے کٹائی، فصل منڈی تک لے جانا اور ڈیزل ٹیوب ویل چلانا۔ قسط کے بعد ٹریکٹر کا سب سے بڑا خرچ اکثر ڈیزل ہی ہوتا ہے، اس لیے فی لیٹر چند روپے کا فرق بھی فی ایکڑ خرچ میں فوراً نظر آتا ہے، خاص طور پر گندم اور چاول کے مصروف سیزن میں۔

آج ڈیزل Rs 396.24 فی لیٹر ہے؛ 10 ایکڑ پر تقریباً 5 لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے روٹاویٹر چلانے پر لگ بھگ 50 لیٹر ڈیزل لگتا ہے۔ اپنے کاموں کا حساب اوپر دیے گئے کیلکولیٹر سے لگائیں۔

کھیت میں ڈیزل کیسے بچائیں

  • ایئر فلٹر صاف رکھیں اور انجیکٹرز کی سروس وقت پر کروائیں؛ بند فلٹر یا گھسا ہوا انجیکٹر خاموشی سے زیادہ ڈیزل جلاتا ہے۔
  • آلہ ٹریکٹر کی ہارس پاور کے مطابق لگائیں؛ بڑا آلہ انجن پر بوجھ ڈالتا ہے اور چھوٹا آلہ چکر بڑھاتا ہے۔
  • صحیح گیئر اور انجن کی رفتار استعمال کریں: ہلکے کام میں اونچا گیئر لگا کر ریس کم رکھیں۔
  • ٹائروں کی ہوا اور پہیوں کی سلپ چیک کریں؛ کھیت میں زیادہ سلپ ڈیزل اور وقت دونوں ضائع کرتی ہے۔
  • انجن کو زیادہ دیر خالی نہ چلائیں اور کھیت کا راستہ ایسا رکھیں کہ ٹریکٹر بغیر کام کے کم چلے۔
  • بھروسے والے پمپ سے ڈیزل لیں اور میٹر دیکھیں؛ ملاوٹ والا یا کم ناپا ہوا ڈیزل بچت سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔